Home / کالم

کالم

ڈیلی ہائوٹکے: کے کالم سیکشن میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہاں پہ آپ کو مختلف کالم نگاروں کی تخلیقات ملیں گی۔ آگر آپ بھی اپنی تحریریں کالم کی صورت میں ڈیلی ہائوٹکے پر شائع کروانا چاہتے ہیں تو ابھی رابطہ کیجیے۔
نوٹ: مصنف کی تحریروں سے ویب سائٹ کی پالیسی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ یہ ان کے اپنے خیالات ہیں۔

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

Baba Kodda

قرآن میں بالکل واضح لکھا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ پچھلے 10 برسوں میں ٹیکنالوجی، خاص کر موبائل ٹیکنالوجی کی وجہ سے سب کچھ بدل چکا۔ آج صبح ایک آرٹیکل پڑھنے کا اتفاق ہوا جو شکاگو میں ٹیکسی چلانے والے کے بیٹے نے لکھا …

مزید پڑھیں

گڈگورننس اور نیب

Baba Kodda

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کا ٹینڈر دو حصوں میں منظور ہوا۔ پہلا حصہ ٹیکنیکل پروپوزل پر مشتمل تھا جس میں کانٹریکٹرز کی پراجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے اپروچ اور ٹیم کے تجربے وغیرہ کو پرکھا گیا – دوسرے مرحلے میں کمرشل ٹینڈر کھولا گیا جس میں سب سے کم …

مزید پڑھیں

بس ہماری ترجیحات بدل گئیں

Baba Kodda

ہمیشہ کی طرح جماعت اسلامی اس دفعہ بھی نقیب اللہ محسود کی دیگ کو منصورے لے جانے کی کوششوں میں لگ گئی۔ لالے سراج نے جوڈیشل انکوائری کے ذریعے 10 دن میں انصاف نہ ملنے کی صورت میں کراچی میں گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کردیا۔ حالیہ دنوں میں قصور …

مزید پڑھیں

غلط روایات کو فروغ مت دیں

Baba Kodda

سن 2000 میں امریکی الیکشن کے نتائج میں بے ضابطگیوں کے ثبوت بالکل واضح تھے، ایلگور کے مقابلے میں بش کی جیت کا مارجن بہت کم تھا اور یہ مارجن بھی ان بے ضابطگیوں یا دھاندلی کے ذریعے ہی حاصل کیا گیا تھا۔ ایلگور کو مشورہ دیا گیا کہ وہ …

مزید پڑھیں

آپ بھی انصاف کا مظاہرہ کریں

Baba Kodda

فضل الرحمان سے ہزار اختلاف کے باوجود اگر اس نے صرف یہ کہا ہے کہ اس نے خواب میں حضرت آدم علیہ السلام سے فون پر بات کی تو اس میں بھڑکنے والی کوئی بات نہیں۔ خواب ہے، کچھ بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس میں نہ تو عقیدہ زیرسوال …

مزید پڑھیں

میں لعنت بھیجتا ہوں زبان زدِعام

Baba Kodda

” میں لعنت بھیجتا ہوں جمہوریت پر ” – جنرل ضیا، 1982 بعد میں پتہ چلا کہ جمہوریت سے ضیا صاحب کی مراد صرف بھٹو خاندان تھا جس کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی گئیں، ورنہ تو جنرل صاحب پانچ وقت کے جمہوری صدر تھے۔ ” میں لعنت بھیجتا ہوں پیپلزپارٹی …

مزید پڑھیں

جعلی پولیس مقابلے۔ پرانی داستان

Baba Kodda

1985 میں وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد نوازشریف کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ پنجاب کے اہم علاقوں پر اپنا سیاسی کنٹرول حاصل کرلے، لیکن پیپلزپارٹی کے جذباتی کارکنان کی موجودگی میں ایسا ہونا تقریباً ناممکن تھا۔ اس کا ایک ثبوت تو سب نے 1988 کے الیکشن میں دیکھ لیا …

مزید پڑھیں