Home / کالم / جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

قرآن میں بالکل واضح لکھا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ پچھلے 10 برسوں میں ٹیکنالوجی، خاص کر موبائل ٹیکنالوجی کی وجہ سے سب کچھ بدل چکا۔ آج صبح ایک آرٹیکل پڑھنے کا اتفاق ہوا جو شکاگو میں ٹیکسی چلانے والے کے بیٹے نے لکھا تھا۔ آرٹیکل کے مطابق اس لڑکے کا باپ پچھلے 40 برس سے ٹیکسی چلارہا تھا اور شہر کے چپے چپے سے واقف تھا۔ اس کو یہ بھی خبر تھی سال کے کس مہینے، مہینے کے کس ہفتے، ہفتے کے کس دن اور دن کے کس پہر شہر کے کس مقام پر ٹریفک کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر فلاں سڑک یا ہائی وے بند ہو تو شہر کی کن گلیوں سے متبادل راستہ کم وقت اور کم فاصلے میں دستیاب ہوتا ہے۔

اس ٹیکسی ڈرائیور کا 19 سالہ بیٹا لکھتا ہے کہ پچھلے سال اس نے گاڑی خریدی اور اپنے سمارٹ فون میں گوگل میپ یعنی نیوی گیشن سسٹم انسٹال کرلیا۔ اس کا باپ لیکن ابھی تک اپنے تجربے کو فوقیت دیتا تھا اور اس کے خیال میں گوگل میپ پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لڑکے نے کئی مرتبہ اپنے باپ کو باقاعدہ چیلنج دیتے ہوئے کسی مخصوص مقام پر پہلے پہنچنے کی شرط لگائی اور ہر دفعہ وہ گوگل میپس کی مدد سے اپنے تجربہ کار اور روٹ شناس باپ کو ہرانے میں کامیاب رہا۔

گوگل میپ ہر لمحہ اپ ڈیٹ ہوتا ہے اور اس کے پاس آپ کے روٹ کے کئی متبادل راستے اور ان پر موجود ٹریفک کی صورتحال ہر وقت اپ ڈیٹڈ ہوتی رہتی ہے۔ آپ آنکھیں بند کرکے گوگل کے بتائے راستے پر ڈرائیو کرکے اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

اس کیس میں اس لڑکے کو گوگل نے مطلوبہ علم فراہم کردیا جو کہ اس کے باپ کے پاس نہیں تھا، چنانچہ وہ اپنے باپ کی نسبت بہتر روٹ منتخب کرکے مطلوبہ مقام پر پہلے پہنچنے میں کامیاب ہوسکا۔

صرف یہی نہیں، اب تو ہر گاڑی اور مشین میں بھی جی پی ایس ڈیوائسز انسٹال ہورہی ہیں۔ مغربی ممالک میں کنسٹرکشن مشینری بشمول کرین، بلڈوزر وغیرہ میں جی پی ایس ڈیوائسز یہ تک بتا دیتی ہیں کہ کس وقت ان کے انجن آن ہوئے اور کس وقت ان سے کام لیا گیا۔ اگر کوئی آپریٹر اپنی کرین کا انجن آن کر بیٹھا رہے کہ مالک کا ڈیزل ضائع ہوگا تو اب یہ اس کیلئے ممکن نہیں رہا، کیونکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے پراجیکٹ مینیجر کو فوری طور پر سگنل مل جاتا ہے کہ فلاں مشین کا انجن آن ہے لیکن وہ استعمال نہیں ہورہی۔ وہ یا تو آپریٹر کو کال کرکے اسے ڈانٹ ڈپٹ سکتا ہے، یا پھر اسے نوکری سے نکال سکتا ہے۔

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

اس کیس میں وہ پراجیکٹ مینیجر اپنی ٹیکنالوجی کی وجہ سے زیادہ علم رکھنے والا بن گیا اور اس کے مقابلے میں وہ کنسٹرکشن مینیجر جس کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں، وہ کم علم والا ہے اور اسی لئے اس کا نقصان ہونے کے چانسز بھی زیادہ ہیں۔

پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے، جہالت کا عالم یہ کہ نہ تو انہیں جدید ٹیکنالوجی کے ٹرینڈز کا علم ہے اور نہ ہی کوئی انہیں بتانے والا۔ ہماری معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے اور ہم آج بھی دقیانوسی طریقے سے زراعت کی پیداوار بڑھانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے ممالک ہم سے بہت آگے نکل گئے اور اب ہمیں ٹماٹر سے لے کر سبز مرچیں تک دوسرے ممالک سے امپورٹ کرنا پڑرہی ہیں۔

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔

ہماری قوم کو نہ تو دین کی سمجھ آسکی اور نہ ہی دنیاوی علوم کی۔

ہماری آبادی کی اکثریت آج بھی ان مولویوں کے ہاتھوں ہرغمال ہے جنہیں خود بھی دین کا ٹھیک طور پر علم نہیں۔ ساری عمر رٹے لگا کر قرآن حفظ کرنے اور نکاح کا خطبہ یا نماز جنازہ پڑھا لینے سے کوئی عالم نہیں بن جاتا۔ یہ موجودہ مولویوں کی جہالت ہی ہے کہ ہمارے دین کی شکل بگڑ کر رہ گئی۔ ایک طرف سیالوی، خادم حسین جیسے فراڈیئے تو دوسری طرف فضل الرحمان، طاہر اشرفی اور ساجد میر جیسے کرپٹ لوگ مذہبی ٹھیکے دار بن بیٹھے۔ اوپر سے ہمارا تعلیمی نظام اتنا بوگس کہ وہ صرف کھوتے ہی پروڈیوس کرسکتا ہے۔

کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

کیا آپ موجودہ حالت میں مغربی اقوام کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

کیا الیکشن میں ووٹ کا حق ان جاہل پٹواریوں کو دینا چاہیئے جنہیں یہ شعور بھی نہیں کہ وہ جن لیڈران کو ووٹ ڈالتے ہیں، ان کے کاروبار اور اولادیں بیرون ملک پھل پھول رہے ہیں اور ان کے مفادات پاکستان کی بجائے لندن، جدہ اور دبئی سے منسلک ہیں۔

ووٹ ڈالنے کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ کم سے کم تعلیمی شرط مقرر کرنا ہوگی ورنہ یہ جاہل ہمیشہ اس ملک کی تقدیر کے فیصلے کرتے رہیں گے اور ان کے مقابلے میں باشعور لوگ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ نقصان میں رہیں گے۔

جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد آپ کے علم میں بھی ضرور کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا ہوگا۔ آپ بھی اس شخص سے کچھ بہتر ہوگئے جس نے یہ پوسٹ نہیں پڑھی!!! بقلم خود باباکوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

طوائف کے کوٹھے یا کسی دینی درسگاہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تعمیر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے