Home / کالم / گڈگورننس اور نیب

گڈگورننس اور نیب

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کا ٹینڈر دو حصوں میں منظور ہوا۔ پہلا حصہ ٹیکنیکل پروپوزل پر مشتمل تھا جس میں کانٹریکٹرز کی پراجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے اپروچ اور ٹیم کے تجربے وغیرہ کو پرکھا گیا – دوسرے مرحلے میں کمرشل ٹینڈر کھولا گیا جس میں سب سے کم لاگت میں پراجیکٹ مکمل کرنے والے کانٹریکٹرز کو زیادہ پوائنٹس دیئے گئے۔

ٹیکنیکل اور کمرشل ٹینڈرز کا سکور جب جمع کیا گیا تو چوہدری لطیف اینڈ سنز کا سکور سب سے زیادہ تھا، چنانچہ یہ پراجیکٹ انہیں ایوارڈ کردیا گیا۔ پھر اس کی خبر شہبازشریف کو ہوئی تو اس نے یک جنبش قلم اس ٹینڈر کو منسوخ کرکے متعلقہ محکمے کو حکم جاری کیا کہ وہ یہ پراجیکٹ لاہور کاسا ڈویلپرز کو ایوارڈ کردے۔ کاسا ڈویلپرز کی لاگت چوہدری لطیف اینڈ سنز سے زیادہ تھی اور شہباز شریف کے اس حکم کی وجہ سے خزانے کو 193 ملین روپے زیادہ خرچ کرنے پڑے۔

یہ شہبازشریف پر نیب کا پہلا الزام تھا۔

شہبازشریف نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کو حکم دیا کہ وہ آشیانہ سکیم کا ٹینڈر کاسا ڈویلپرز کو دے جو کہ خواجہ سعد رفیق کے بزنس پارٹنر اور پیراگون سوسائٹی کے مالک کی کمپنی ہے – کاسا گروپ اس پراجیکٹ کو وقت پر مکمل کرنے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ اس کی لاگت میں بھی 715 ملین روپے کا اضافہ کردیا۔

یہ شیبازشریف پر نیب کا دوسرا الزام تھا۔

اس منصوبے کی کنسلٹنگ سروسز کیلئے 35 ملین روپے کا ٹھیکہ ایک انجینئرنگ فرم کو دیا جا چکا تھا لیکن شہبازشریف نے یہاں بھی مداخلت کرتے ہوئے پی ایل ڈی سی کو حکم دیا کہ وہ کنسلٹنگ سروسز کیلئے ای سی ایس پی کمپنی کو یہ پراجیکٹ دے جس نے اس کیلئے 192 ملین روپے نکال لئے، یعنی تقریباً 157 ملین روپے زائد رقم خرچ کی گئی۔

یہ نیب کا شہباز شریف پر تیسرا الزام تھا۔

جب گڈ گورننس کا یہ استعارہ کل نیب کے روبرو پیش ہوا تو سردی کے موسم میں بھی اس کی پیشانی پر پسینہ تھا اور زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہ کرسکا۔ نیب نے جتنے بھی سوال پوچھے، سب کے جواب میں اس نے بس یہی کہا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

ڈیڑھ گھنٹے کی کھچائی کے بعد جب وہ باہر آیا تو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی ان حرکتوں سے خونی انقلاب آئے گا۔

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

طوائف کے کوٹھے یا کسی دینی درسگاہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تعمیر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے