Home / کالم / بس ہماری ترجیحات بدل گئیں

بس ہماری ترجیحات بدل گئیں

ہمیشہ کی طرح جماعت اسلامی اس دفعہ بھی نقیب اللہ محسود کی دیگ کو منصورے لے جانے کی کوششوں میں لگ گئی۔ لالے سراج نے جوڈیشل انکوائری کے ذریعے 10 دن میں انصاف نہ ملنے کی صورت میں کراچی میں گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کردیا۔

حالیہ دنوں میں قصور میں زینب کا ہولناک واقعہ بھی رونما ہوا تھا جس کے تانے بانے ایک گھناؤنے گینگ سے ملتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ گینگ پچھلے کئی سال سے معصوم بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرتا آرہا ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو نقیب اللہ کا قتل پولیس کے نظام پر ایک بدنما دھبہ ہے لیکن زینب جیسے بچوں کا قتل پورے معاشرے کیلئے کلنک کا ٹیکہ ہے۔

ایسے میں اگر لالہ سراج قصور کو بھلا کر نقیب کے حق میں جرگے بلانے کا اعلان کرے تو اس کی وجہ جاننے کیلئے آپ کا ارسطو ہونا ضروری نہیں۔ لالے کا ووٹ بنک خیبرپختون خواہ میں ہے، زینب یا نقیب میں سے کس ایشو پر جرگہ بلانا ہے، اس کا فیصلہ بہت آسان ہے۔ صرف یہی نہیں، آج سے 5 ماہ قبل جماعت اسلامی کا سب سے بڑا ایشو برما کے مظلوم مسلمان تھے لیکن اب ان کا نام بھی کوئی نہیں لیتا۔ ایسا نہیں کہ برمی حکومت نے وہاں کے مسلمانوں پر ظلم بند کردیئے، بس ہماری ترجیحات بدل گئیں۔

آج سے چند ہفتے قبل جماعت اسلامی کا سب سے بڑا ایشو اسرائیلی مظالم بھی تھے، لیکن اب وہ بھی کہیں دب کر رہ گیا۔ اور ہاں، آج سے تقریباً دو سال قبل ممتاز قادری کی پھانسی پر جماعت اسلامی کا سب سے بڑا ایشو نظام مصطفی ﷺ بھی تھا، اب وہ نظام بھی ایم ایم اے کے اتحاد کے بوجھ تلے کہیں دب کر رہ گیا۔ پھر جماعتئے حیران و پریشان ہوتے ہیں کہ لوگ ان پر اعتبار کیوں نہیں کرتے۔ پہلے آپ لوگ اپنی خود کی پالیسیوں پر تو اعتبار کرلیں، لوگ بھی اعتبار کرنا شروع ہوجائیں گے!!!

بقلم خود بابا کوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

طوائف کے کوٹھے یا کسی دینی درسگاہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تعمیر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے