Home / کالم / غلط روایات کو فروغ مت دیں

غلط روایات کو فروغ مت دیں

سن 2000 میں امریکی الیکشن کے نتائج میں بے ضابطگیوں کے ثبوت بالکل واضح تھے، ایلگور کے مقابلے میں بش کی جیت کا مارجن بہت کم تھا اور یہ مارجن بھی ان بے ضابطگیوں یا دھاندلی کے ذریعے ہی حاصل کیا گیا تھا۔ ایلگور کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں جائے اور الیکشن کے نتائج کو چیلنج کرے۔

ایلگور نے لیکن معاملے کو وہیں دبا دیا اور اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بہت عرصے بعد اس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں وجہ بتائی کہ اس کے پاس مکمل ثبوت موجود تھے لیکن اگر وہ اس معاملے کو ہائی لائٹ کرتا تو اس پورے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد مجروح ہوجاتا اور آئیندہ نہ تو کسی کو الیکشن کی شفافیت پر یقین رہتا اور نہ ہی کوئی نتائج تسلیم کرتا۔ راؤ انوار نے اپنے خلاف قائم ہونے والی انکوائری کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور کہا ہے کہ کمیٹی کے اراکین اس کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے۔ راؤ انوار کے اس رویئے کی بنیاد وہی روش ہے جو نوازشریف اور اس کے لفافہ خور حواریوں نے پانامہ لیکس پر اختیار کی۔ جب نوازشریف نے عدالتی عمل کو تسلیم نہ کیا، جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتائج کو تسلیم نہ کیا، عدالتی فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا تو پھر یہ اس رویئے کی بنیاد بنا جو اب راؤ انوار اختیار کررہا ہے۔ اس کے پاس اپنے اس رویئے کا مکمل اخلاقی جواز موجود ہے کیونکہ ملک کا سابق وزیراعظم، حکمران جماعت، اہم میڈیا چینلز اور مشہور دانشوران اس رویئے کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔ آپ کو چاھے اچھا لگے یا برا، راؤ انوار کو اب ‘ مجھے کیوں نکالا ‘ کہنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ غلط روایات کو فروغ مت دیں، جو گرہیں آپ ہاتھوں سے لگاتے ہیں، انہیں کھولنے کیلئے شاید آپ کے دانت بھی ناکام رہیں۔ نوازشریف نے اربوں کی کرپشن سے ملک کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اس نے اداروں کو تباہ کرکے اور ان کا اعتماد مجروح کرکے پہنچایا!!! بقلم خود باباکوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

طوائف کے کوٹھے یا کسی دینی درسگاہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تعمیر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے