Home / کالم / جعلی پولیس مقابلے۔ پرانی داستان

جعلی پولیس مقابلے۔ پرانی داستان

Baba Kodda

1985 میں وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد نوازشریف کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ پنجاب کے اہم علاقوں پر اپنا سیاسی کنٹرول حاصل کرلے، لیکن پیپلزپارٹی کے جذباتی کارکنان کی موجودگی میں ایسا ہونا تقریباً ناممکن تھا۔ اس کا ایک ثبوت تو سب نے 1988 کے الیکشن میں دیکھ لیا جب نوازشریف کے نگران وزیراعلی ہونے اور پوری اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے باوجود پی پی نے پنجاب سے اکثریتی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، حتی کی لاہور کی 9 میں سے 7 سیٹیں بھی پیپلزپارٹی نے جیت لی تھیں۔

سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے نوازشریف کو جو اسٹیبلشمنٹ نے ایک گیم پلان دیا اس کے خدوخال کچھ یوں تھے کہ اہم شہروں کے مشہور بدمعاشوں اور مافیا کے سربراہان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں ان کی غیرقانونی سرگرمیاں جاری رکھنے دی جائیں۔

اس پلان کا دوسرا حصہ طلبہ تنظیم ایم ایس ایف تھا جس کے مطابق اس تنظیم کو بھاری تعداد میں اسلحہ فراہم کرکے بدمعاشی کرنے کی مکمل آزادی دے دی گئی۔ ایم ایس ایف کے معاملات شہبازشریف دیکھتا تھا جبکہ بدمعاشوں کے ساتھ تعلقات کی نگرانی براہ راست نوازشریف کے پاس تھی۔

1985 سے لے کر 1993 تک، لاہور اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے اہم علاقوں میں ان بدمعاشوں کے ذریعے خوف و ہراس کی فضا پیدا کی گئی۔ بااثر سیاسی مخالفین کو پیغامات بھجوائے گئے کہ یا تو وہ نوازشریف کے ساتھ شامل ہوجائیں، یا پھر ان بدمعاشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہیں۔ جی ٹی روڈ کے اطراف واقع پنجاب کے علاقوں کے سیاسی خاندان نسبتاً شریف اور امن پسند واقع ہوئے ہیں، چنانچہ وہ ان دھمکیوں میں آتے گئے اور بتدریج پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوتے گئے۔

ان لوگوں کو آج کل ” الیکٹیبلز ” کہا جاتا ہے۔ اگر آپ ن لیگ کے موجودہ اراکین اسمبلی کا جائزہ لیں تو ان کی اکثریت پیپلزپارٹی یا دوسری جماعتوں میں ہوا کرتی تھی لیکن حالات کے جبر اور ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے یہ لوگ مسلم لیگ کی چھتری تلے آتے گئے۔

1997 میں شہبازشریف جب وزیراعلی بنا تو اس وقت ایم ایس ایف اور پنجاب کے بڑے شہروں میں ان بدمعاشوں نے پوری طرح طاقت پکڑلی تھی اور اب یہ لوگ مطالبات کررہے تھے کہ انہیں بھی سیاست میں حصہ دیا جائے۔ پھر شہبازشریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں نوید سعید اور علی محمد جیسے پولیس کے شوٹرز پیدا کئے اور ان کے ذریعے ایک ایک کرکے ان تمام بدمعاشوں اور ایم ایس ایف کے لیڈران کو پولیس مقابلوں میں مروانا شروع کردیا۔ ٹھوکرنیازبیگ، سبزہ زار سکیم اور لاہور کا بند روڈ کے علاقے ان پولیس مقابلوں کیلئے مشہور تھے۔

بہت سے لوگ مرگئے، جنہیں موقع ملا، وہ جان بچا کر بیرون ملک بھاگ گئے۔

آپ کو ایک ایسی بات بتاتا چلوں جو آج تک میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوسکی۔ 1997 میں جب نوازشریف نے حکومت سنبھالی تو اس کی پوری کوشش تھی کہ بینظیر سیاست کو خیرباد کہہ کر بیرون ملک چلی جائے۔ اسی لئے اس نے زرداری کو جیل میں ڈال دیا اور بینظیر پر مقدمات قائم کرکے اسے کبھی کراچی، کبھی پنڈی تو کبھی لاہور کی عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور کردیا۔ بینظیر لیکن حوصلہ مند خاتون تھی، اس نے نوازشریف کا دباؤ ماننے سے انکار کردیا اور دھکے کھانے کو ترجیح دی۔

پھر ایک دن بینظیر کو خبر ملی کہ نوید نامی پنجاب پولیس کا مشہور شوٹر کراچی میں تعینات ہونے جارہا ہے اور وہاں اسے زرداری کو حوالات میں قتل کرنے کا ٹارگٹ ملا ہے۔ اب بینظیر کا حوصلہ جواب دے گیا اور اس نے جبری جلاوطنی اختیار کرلی تاکہ زرداری کی جان بچ جائے۔ بعد میں زرداری نے بینظیر کے ساتھ کیا کچھ کیا، یہ علیحدہ بات ہے۔

خیر، ایک ایک کرکے جب تمام مخالفین کو ٹھکانے لگا دیا گیا تو پھر پیچھے وہ پولیس کے شوٹرز بچ گئے جنہوں نے اپنے گینگ بنا لئے اور سیاسی تعلقات کے ذریعے طاقتور ہوتے گئے۔ پھر حکومت نے ان پولیس کے شوٹرز کو بھی مروانا شروع کردیا۔

کراچی کا ایس ایس پی راؤ انوار بھی ایک ایسا ہی شُوٹر ہے جسے پیپلزپارٹی نے نوازشریف کی پیروی میں کراچی میں تیار کیا اور اس کے ذریعے کراچی کی اربوں روپے کی لینڈ پر قبضے کئے گئے، مخالفین کو پولیس مقابلوں میں مروایا گیا، سندھ میں قائم شوگر ملوں کے مالکان کو راؤ انوار جیسے شوٹرز کی دھمکیاں دے کر ان کی فیکٹریاں زرداری کے نام کروائی گئیں ۔ ۔ ۔ ۔

راؤ انوار ہو یا نوید سعید، عابد باکسر ہو یا علی محمد۔ یہ لوگ پولیس میں نوکریاں کرتے تھے اور پھر حکمرانوں کے کہنے پر شوٹرز بنے۔ ان لوگوں کو جب یہ کہا جاتا کہ آپ آئی جی کو رپورٹ مت کریں بلکہ سیدھا چیف منسٹر ہاؤس سے ہدایات حاصل کریں تو یہ اپنی اوقات سے باہر ہوجاتے اور اسی مستی میں مدہوش ہو کر اندھا دھند لوگوں کو پھڑکانا شروع کردیتے۔

میرے تجزئے کے مطابق راؤ انوار ایک نہایت تیزطرار انسان ہے جو ان تمام پولیس افسران کا انجام دیکھ چکا جنہیں حکومتوں نے استعمال کیا اور بعد میں مروا دیا۔ راؤ انوار کے پاس زرداری کی آڈیو اور ویڈیو ٹیپس موجود ہیں جن میں وہ براہ راست لوگوں کو قتل کرنے کے آرڈر جاری کررہا تھا۔ زرداری بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اور یہی وہ سیفٹی والو ہے جو راؤ انوار استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف دائر کسی بھی قسم کے مقدمے سے بآسانی نبٹتا آیا ہے اور آئیندہ بھی نبٹ لے گا۔

خیال رہے کہ اس سال راؤ انوار ریٹائرڈ ہونے جارہا ہے، عین ممکن ہے کہ آئیندہ آنے والے چند روز، ہفتوں یا مہینوں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کینیا یا جنوبی افریقہ میں سیٹل ہوجائے۔

عوام کیلئے اس پوری کہانی میں یہ سبق ہے کہ اگر آپ کتے کی موت مرنے سے بچنا چاہتے ہیں تو ان درندے نما سیاسی بھیڑیوں کو پہچانیں۔ انہیں ووٹ دے کر منتخب مت کریں ورنہ شریف برادران اور زرداری آپ لوگوں کے اوپر راؤ انوار، نوید سعید، عابد باکسر اور علی محمد جیسے شوٹرز مسلط رکھیں گے جو جب چاہے آپ کو گھر سے اٹھا کر سبزہ زار یا بند روڈ پر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیں گے۔

اگر اپنی اور اپنے بچوں کی جان عزیز ہے تو ن لیگ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے جان چھڑائیں، ورنہ کتے کی موت مرنے کیلئے تیار رہیں!!! بقلم خود باباکوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

طوائف کے کوٹھے یا کسی دینی درسگاہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تعمیر میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے