Home / کالم / بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت کس سے؟

Baba Kodda

طوائف کے کوٹھے یا کسی دینی درسگاہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں کی تعمیر میں اینٹ، ریت، سیمنٹ، سریا وغیرہ استعمال ہوتے ہیں، پھر طوائف کا کوٹھا قابل نفرت اور دینی درسگاہ واجب الاحترام کیوں ہوجاتی ہے؟

جوئے کے اڈے اور سٹاک مارکیٹ میں کیا فرق ہے؟ دونوں جگہوں پر آپ اپنی رقم سے بازی لگاتے ہیں، لیکن جوا کھیلنے سے آپ مجرم اور سٹاک مارکیٹ میں پیسے لگانے سے آپ انویسٹر کیسے بن جاتے ہیں؟

کسی بھی بلڈنگ، عمارت یا ادارے کو عزت اور احترام محض اس وجہ سے نہیں ملتا کہ وہ ایک بلڈنگ یا ادارہ ہے، اس لئے اس کی عزت کرنی چاہیئے، بلکہ اس عمارت یا ادارے کا استعمال اس کی عزت یا نفرت کا سبب بنتے ہیں۔ طوائف کا کوٹھا اسی لئے قابل نفرت کہلاتا ہے کہ وہاں نوٹوں کے عوض عزت بیچی جاتی ہے، دینی درسگاہ کو اسی وجہ سے عزت و احترام ملتا ہے کہ وہاں دین کی تعلیم دی جاتی ہے جس سے معاشرے میں بہتری آسکتی ہے۔

پارلیمنٹ کی عزت و وقار محض اس لئے ضروری نہیں کہ اس کی بلڈنگ اسلام آباد میں واقع ہے، یا پھر یہاں ملک کے نمائیندے جمع ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی عزت و وقار کا تعین اس بات سے ہوگا کہ وہاں بیٹھے لوگ اپنے فرائض کس طرح سرانجام دے رہے ہیں، کیا وہ عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرتے ہیں یا اپنے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے بل پاس کرواتے ہیں؟

آپ مشرف کا دور شمار نہ کریں، پچھلے دس سال سے مسلسل جمہوریت قائم ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں نے باری باری حکومت کرلی۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان دس سالوں میں ہماری پارلیمنٹ نے کتنے قوانین پاس کئے جن سے غریب عوام کو تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرنے میں مدد ملی ہو؟ ان کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کا خیال رکھا گیا ہو؟ انہیں بہتر روزگار فراہم کرنے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہو؟ ان کے سماجی مسائل کے حل کیلئے غوروفکر کیا گیا ہو؟

اگر ہمارے جمہوری ادوار میں پارلیمنٹ نے یہ کام نہیں کئے، بلکہ یہ پارلیمنٹ کرپٹ صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات کھولنے کی راہ میں حائل ہوگئی، اسی پارلیمنٹ نے آنکھیں بند کرکے ختم نبوت ﷺ شق میں ترمیم بھی پاس کرلی، یہی وہ پارلیمنٹ تھی جس نے دنیا کے کرپٹ ترین نااہل شخص کو پارٹی صدارت دینے کیلئے 4 منٹ میں آئین میں ترمیم بھی پاس کروا دی، اسی پارلیمنٹ نے 8 سال تک بلدیاتی اداروں کے قیام کا بل منظور نہ کیا، یہی وہ پارلیمنٹ ہے جس نے ہر سال عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ لادنے والے بجٹ منظور کئے، اسی پارلیمنٹ میں ہر پانچ سال بعد چور ڈاکو قاتل لٹیرے جھوٹے حلف اٹھا کر خدا کے غضب کو للکارتے ہیں، یہی وہ پارلیمنٹ ہے جس کے اراکین جعلی ڈگریاں اور اثاثے چھپا کر منتخب ہوتے ہیں، اسی پارلیمنٹ میں منسٹرز خواتین کو کوڑے کا ٹرک کہہ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اسی پارلیمنٹ میں وزیراعظم اپنی تقریر میں جھوٹ بولتا ہے اور پھر پکڑے جانے پر عدالت میں کہتا ہے کہ پارلیمنٹ کی تقریر سیاسی بیان تھا، اسی پارلیمنٹ کا منتخب کردہ صدر وعدہ خلافی کو یہ کہہ کر جائز قرار دیتا ہے کہ وعدہ کوئی قرآن یا حدیث تھوڑی ہوتا ہے، اسی پارلیمنٹ میں اراکین اسمبلی کو سیکیورٹی اور پروٹوکول دینے کے بل پاس ہوتے ہیں، یہی پارلیمنٹ ہے جس نے آج تک کبھی پولیس اور عدالتی نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ۔ ۔ ۔

طوائف کا کوٹھا بھی اینٹ، سیمنٹ، سریئے سے بنتا ہے اور مسجد بھی۔ کوٹھا اس لئے قابل نفرت ہوتا ہے کہ وہ غیراخلاقی سرگرمیوں کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جبکہ مسجد اس لئے واجب الاحترام ہوتی ہے کہ وہاں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔

پارلیمنٹ اور طوائف کے کوٹھے میں کوئی فرق نہیں، دونوں جگہ عزت بیچ کر نوٹ بنائے جاتے ہیں۔

عمران خان نے موجودہ پارلیمنٹ پر اسی لئے لعنت بھیجی تھی کہ یہاں حرامخور حکمران اور اس کے حواریوں نے آج تک عوامی فلاح کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔

پارلیمنٹ نے اپنی عزت کروانی ہے تو اس کیلئے عزت کروانے والے کام کرے، موجودہ روش پر چلتی رہی تو اس پر لعنت ہی بھیجی جائے گی، پھولوں کی چادر نہیں چڑھائیں گے!!! بقلم خود باباکوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

جعلی پولیس مقابلے۔ پرانی داستان

1985 میں وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد نوازشریف کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ پنجاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے