Home / کالم / بلوچستان اسمبلی کی اندرونی کہانی

بلوچستان اسمبلی کی اندرونی کہانی

خبریں آرہی ہیں کہ بلوچستان اسمبلی میں پچھلے ہفتے قائدایوان کی تبدیلی لانے کیلئے آصف زرداری نے کم و بیش ڈیڑھ سے دو ارب روپے خرچ کئے۔ اس کی سب سے اہم وجہ اگلے الیکشن کیلئے بارگیننگ چِپ حاصل کرنا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ چند ہفتوں بعد ہونے والے سینیٹ الیکشنز میں بھی بلوچستان سے زیادہ سے زیادہ پی پی کے امیدواران منتخب کروانا تھا۔

اگر آپ نہیں جانتے تو بتاتا چلوں کہ صدارتی انتخاب میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کی تعداد 65 ہوتی ہے اور 65 ہی بلوچستان اسمبلی کے ممبران کی تعداد ہے۔ یعنی صدارتی الیکشن میں بلوچستان اسمبلی کے ہر ایک ممبر کا ایک ووٹ کاؤنٹ ہوتا ہے جبکہ خیبرپختون خواہ کے دو اراکین، سندھ کے تین اور پنجاب کے چھ اراکین کا ایک صدارتی ووٹ بنتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کاروباری اور سیاسی نقطہ نظر سے زرداری نے اپنا پیسہ ‘ کارنر پلاٹ ‘ پر لگایا ہے کیونکہ اگر فی ممبر صدارتی ووٹ کا ریٹ 2 کروڑ ہو تو بلوچستان سے 40 ووٹ لینے کیلئے 80 کروڑ چاہئیں جبکہ یہی 40 ووٹ اگر پنجاب سے خریدنے پڑیں تو چھ گنا زیادہ رقم، یعنی 2 ارب 40 کروڑ خرچ کرنا پڑتے۔

سندھ اسمبلی میں زرداری کی اکثریت اگلی دفعہ بھی رہے گی، بلوچستان سے 41 ووٹ خریدنے کے بعد زرداری کی خواہش ہوگی کہ اگلے سیٹ اپ میں ن لیگ کے ساتھ بہتر ڈیل کرکے حکومت بناسکے اور اس مقصد کیلئے اگر اسے کھربوں ڈالرز کی کرپشن کی کمائی کا آدھ فیصد خرچ بھی کرنا پڑجائے تو کیا مضائقہ ہے؟ سندھ کی اگلی حکومت سے وہ یہ ساری انویسٹمنٹ سود سمیت وصول کرلے گا اور اگر وفاقی سیٹ اپ میں حصہ مل گیا تو وہ بونس ہوگا۔

اس سارے کھیل میں مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان میں اپنے 8 ووٹ 40کروڑ روپے لے کر زرداری کو بیچے، جبکہ اپنے اراکین اسمبلی کو صرف 20، 20 لاکھ دے کر فارغ کردیا، یعنی 1 کروڑ 60 لاکھ اپنے ایم پی ایز کو دیئے اور باقی 38 کروڑ 40 لاکھ اپنے اکاؤنٹ میں ڈال دیئے۔

یہ حال ہے آپ کے ملک کی جمہوریت اور اس کی اسمبلیوں کا۔ اگر عمران خان نے کل کے جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی تو کوئی غلط نہیں کیا۔

اس نظام پر، اس پارلیمنٹ پر، صوبائی اسمبلیوں پر، زرداریوں، نواز شریفوں اور فضلوں پر ہزار بار لعنت!!! بقلم خود باباکوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

جعلی پولیس مقابلے۔ پرانی داستان

1985 میں وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد نوازشریف کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ پنجاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے