Home / کالم / مولاناطارق جمیل پرتنقید، جوابات؟

مولاناطارق جمیل پرتنقید، جوابات؟

طارق جمیل صاحب پر ہونے والی تنقید کے جواب میں دیوبندی ردعمل ہمیشہ کی طرح دلیل سے عاری اور جھوٹی صفائیوں پر مشتمل ہے۔ میری پچھلی پوسٹ پر اور سوشل میڈیا پر اب تک مندرجہ ذیل قسم کی وضاحتیں سامنے آئی ہیں:

پہلی وضاحت:
لیموزین گاڑی طارق جمیل صاحب کے دوست اور میزبان نے منگوائی تھی۔ اب بھلا آپ خود ہی بتائیں، کیا ائیرپورٹ سے نکل کر مولانا صاحب اپنے میزبان کو یہ کہتے کہ بھائی، میں نے لیموزین میں نہیں جانا، میں یہاں سے پیلی ٹیکسی یا بس لے کر آجاؤں گا؟

جواب:
جی بالکل۔ مولانا صاحب کسی تفریحی دورے پر نہیں بلکہ تبلیغی دورے پر تھے، ان سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ تبلیغی جماعت پر نکلنے کیلئے سادگی سب سے بنیادی شرط ہے جو مرکز میں رکھی جاتی ہے۔ سفر کے زرائع سے لے کر کھانے پینے کے معاملات تک، کفایت شعاری اور سادگی کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔

مولانا صاحب اپنے دورے کے میزبانوں کے سامنے یہ تمام شرائط پیشگی رکھ سکتے تھے تاکہ ان کو مشعل راہ بنانے والے عیش و عشرت کے لوازمات کو اپنانا ایصال ثواب کا زریعہ نہ سمجھنا شروع ہوجائیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ کس نے کہا کہ میزبان کی ہر بات ماننا ضروری ہوتا ہے؟ اگر میزبان مولانا صاحب کو کسی پب یا کلب میں جانے کو کہے تو کیا مولانا تیار ہوجائیں گے؟

دوسری وضاحت:
طارق جمیل صاحب پنجاب کے چند بڑے جاگیرداروں میں سے ایک ہیں، ان کی فلاں جگہ پر سینکڑوں ایکڑ زرعی زمینیں ہیں اور ایسی گاڑیاں ان کیلئے نئی بات نہیں، وہ پاکستان میں بھی سوا کروڑ کی گاڑی میں سفر کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ افورڈ کرسکتے ہیں۔

جواب:
مولانا کے پاس آبائی زمینیں ضرور تھیں لیکن پنجاب کے بڑے جاگیردار گھرانوں میں ان کا شمار کبھی بھی نہ ہوا۔ اتنی بڑی تمہت لگا کر آپ طارق جمیل صاحب کے ساتھ ہمدردی کی بجائے الٹا انہیں بدنام کررہے ہیں۔ ویسے ایمان کے جس درجے پر طارق جمیل صاحب فائز ہیں، وہ یہ بات بخوبی جانتے ہوں گے کہ امارت اور غربت اللہ کی طرف سے بطور امتحان آتی ہیں۔ امارت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ فضول خرچی شروع کردیں۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا کی زمینوں پر کام کرنے والے سینکڑوں مزارعے ایسے ہوں گے کہ اگر مولانا سوا کروڑ کی گاڑی رکھنے کی بجائے 50، 60 لاکھ کی گاڑی رکھ لیتے اور باقی کی رقم اپنے مزارعوں کی بیٹیوں کی شادیوں میں صرف کردیتے تو نہ تو ان کے سفر کی ضروریات میں کمی آتیں اور اللہ بھی خوش ہوجاتا۔

اگر کوئی یہ کہے کہ میں ایسا کیوں نہیں کرتا اور مولانا سے کیوں توقع رکھتا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے ایمان کا درجہ مولانا کے مقابلے میں ایک فیصد بھی نہیں۔ میری نسبت مولانا کیلئے یہ کام کرنے بہت آسان ہونے چاہئیں۔

تیسری وضاحت:

مولانا کی لیموزین پر اعتراض کرنے والے کیا یہ چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ بیچ کر کھوتے کھوتیوں پر سفر شروع کردیں اور جو جدید آسائشیں دستیاب ہیں، ان کا استعمال ترک کردیں؟؟؟

جواب:

یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ مولانا یا تو لیموزین میں سفر کریں یا پھر کسی کھوتی پر۔ اس کے علاوہ بھی درمیان میں بہت سی آپشنز ہیں۔ 35 فٹ کی لیموزین کی بجائے عام سی مرسیڈیز گاڑی بھی لگژری میں شمار ہوتی ہے، اگر مولانا اس میں سفر کرتے تو شاید ان پر اتنے اعتراضات نہ اٹھتے۔ یہ کس نے کہہ دیا کہ لیموزین ہی واحد آپشن ہے اور اس سے نیچے صرف کھوتی۔

باٹم لائن:

طارق جمیل صاحب اپنی تمام تر خوبیوں اور ایمان کے بلند ترین درجات کے باوجود انسان ہی ہیں۔ ان سے غلطی ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ ہم کیوں ہر معاملے میں پٹواری بن کر اپنے ہیرو کو فرشتوں کے درجے پر فائز کرلیتے ہیں؟

یہی رویہ جنید جمشید مرحوم کے معاملے میں بھی اپنایا گیا تھا۔ جب جنید جمشید کی ڈیڑھ سال قبل لڑکیوں کے ساتھ سیلفیاں آنا شروع ہوئیں تو یہی دیوبندی پٹواریوں نے اس کی عجیب و غریب صفائیاں دینا شروع کردیں۔

آپ لوگوں کے یہی رویئے خرابی کی بنیاد بنتے ہیں!!! بقلم خود باباکوڈا

About nasirpiya

Hi, I am Nasir Piya the Owner of this Blog, Graduated in Computer Science. I love to writing the different type of informative Articles. By profession, I am a Blogger, Web Developer, Freelancer and SEO Professional.

یہ بھی دیکھیں

Baba Kodda

جعلی پولیس مقابلے۔ پرانی داستان

1985 میں وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد نوازشریف کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ پنجاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے